ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 30 دسمبر کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے نقدنکالنے کی تحدید، مطالبہ زیادہ،فراہمی کم

30 دسمبر کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے نقدنکالنے کی تحدید، مطالبہ زیادہ،فراہمی کم

Mon, 26 Dec 2016 12:32:00    S.O. News Service

عوام بدستورقطاربند،بینکوں میں پیسوں کی کمی ،نیتاؤں کے گھروافرمقدارمیں نقدی پراٹھے سوال 
نئی دہلی ، 25؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )بینک شاخوں اوراے ٹی ایم نقد کی تحدیداورپابندی30دسمبر کے بعدبھی جاری رہ سکتی ہے۔کرنسی چھاپنے والی پریس اورریزروبینک نئے نوٹوں کی مانگ کے مطابق فراہمی ابھی نہیں کر پا رہے ہیں۔اورجوکچھ فراہمی ہوبھی رہی ہے توبیک ڈورسے لیڈروں کے پاس بڑی مقدارمیں نئے نوٹ پہونچ رہے ہیں جس سے دن بھرلائن میں لگے عام آدمی کوچوبیس ہزارکی رقم تودوردودوہزاربھی نہیں مل پارہے ہیں۔بینکوں کی ملی بھگت اوربدعنوانی کی خبریں بھی عام ہیں۔عام آدمی ’’دیش ہت ‘‘میں ڈیڑھ ماہ سے قطارمیں لگاہے ،بیشتراے ٹی ایم بندہیں جبکہ کئی بینکوں میں نقدی نہ ہونے کانوٹ بھی دروازہ پرچسپاں ہے۔حالانکہ بیک ڈورسے پہونچے ہوئے وافرمقدارمیں پیسے لیڈروں کے گھرپہونچے اورپکڑے گئے ہیں۔ایسے میں عام آدمی بدستوربدحال ہے اوراس کاسوال منطقی ہے کہ ہم تودیش کے مفادمیں لائن میں لگے رہیں ،بینک رقم کے دستیاب نہ ہونے کی بات کرے توبینکوں کے پاس لیڈروں کے لئے اتنے پیسے کہاں سے آئےَ ۔نوٹ بندی کی 50دن کی حد قریب آ رہی ہے۔ایسے میں بینکاروں میں مسلسل یہ تاثربن رہا ہے کہ آب پر روک نئے سال میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جس سے بینکوں کا کام کاج آسانی طریقے سے ہوسکے۔ایس بی آئی کی صدر اردھت بھٹاچاریہ نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ واپسی پر روک تب تک نہیں ہٹایاجاسکتا،جب تک کہ بینکوں کے پاس کافی مقدار میں نقد رقم دستیاب نہیں ہوں۔کئی مقامات پربینک24000روپے کی ہفتہ وار حد کو بھی پورا نہیں کرپارہے ہیں۔وہ لوگوں کو اس حد سے کم کی نقد دستیاب کرا رہے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نئے نوٹوں میں نقدرقم دی جا سکے۔ماناجا رہا ہے کہ اگر لوگوں اور تاجروں سے 2جنوری سے اس حد کو ہٹایا جاتا ہے توبینک لاکھوں جائز کرنسی کی مانگ کو پورا نہیں کر پائیں گے۔قابل ذکر ہے کہ ریزرو بینک نے نوٹ بندی کے بعد 9نومبر سے 19دسمبر تک بینکاری نظام میں 5.92لاکھ کروڑ روپے کے نئے نوٹ ڈالے ہیں۔بند کئے گئے نوٹوں کی قیمت 15.4لاکھ کروڑ روپے بیٹھتی ہے۔


Share: